May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nancycouick.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Palestinians carry bags of flour they grabbed from an aid truck near an Israeli checkpoint, as Gaza residents face crisis levels of hunger, amid the ongoing conflict between Israel and Hamas, in Gaza City, on February 19, 2024. (Reuters)

پینٹاگون نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے غزہ کی امداد میں تیزی لانے کے لیے ایک تیرتی امریکی فوجی بندرگاہ کی تعمیر کا جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے، اس کی تعمیر میں 60 دن لگ سکتے ہیں اور اس منصوبے میں 1000 سے زیادہ امریکی فوجی شامل ہیں۔

بائیڈن نے اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں اس اقدام کا اعلان کیا کیونکہ وہ سات اکتوبر سے غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کے لیے اپنی کٹر حمایت پر اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ایک دن بعد پینٹاگون نے ٹائم لائن کی پیشکش کی۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر فوری کارروائی نہ کرنے کی صورت میں قحط “تقریباً ناگزیر” ہے۔ ان حالات کا ایک باضابطہ نتیجہ کہ 2.3 ملین افراد کے ساحلی انکلیو میں قحط آگیا ہے، اگلے ہفتے آ سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ ایک بار قحط کا اعلان ہو جائے تو کئی لوگوں کی مدد کرنے میں بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

سیو دی چلڈرن کے جیسن لی نے کہا، “غزہ میں بچے کھانے کے لیے انتظار نہیں کر سکتے۔ وہ پہلے ہی غذائی قلت سے مر رہے ہیں اور ان کی جان بچانا گھنٹوں یا دنوں کا معاملہ ہے – ہفتوں کا نہیں۔”

کچھ امریکی قانون سازوں اور امدادی تنظیموں نے کہا کہ تیرتے ہوئے پشتے کے نظام نے بڑے مسئلے کو چھپا دیا ہے: اسرائیلی حکومت کی زمینی راستے سے غزہ میں مزید امداد کی اجازت دینے میں ناکامی جو تیز ترین اور مؤثر ترین آپشن ہے۔

ریاست ہائے متحدہ میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایورل بینوئٹ نے کہا، “یہ لاجسٹکس کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔”

” کام کرنے کے لیے امریکی فوج کی طرف دیکھنے کے بجائے امریکہ کو پہلے سے موجود سڑکوں اور داخلی مقامات کا استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر انسانی بنیادوں پر رسائی پر اصرار کرنا چاہیے۔”

پینٹاگون کے چیف ترجمان ایئر فورس کے میجر جنرل پیٹرک رائڈر نے کہ ہے کہ بندرگاہی نظام کی منصوبہ بندی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور تعیناتی کے احکامات ان فوجیوں کے لیے ابھی جانا شروع ہی ہوئے ہیں جو شرقِ اوسط جائیں گے۔

پینٹاگون نے کہا کہ اس نے ابھی تک یہ بھی طے نہیں کیا ہے کہ تیرتی ہوئی بندرگاہ کے لیے لینڈنگ سائٹ کو کسی بھی خطرے سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور کہا کہ وہ اسرائیل سمیت شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

کیا پینٹاگون کو توقع ہے کہ پورٹ سسٹم کو فلسطینی گروپ حماس نشانہ بنائے گا جسے امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے، اس سوال کے جواب میں رائیڈر نے کہا: “یہ یقینی طور پر ایک خطرہ ہے۔”

رائڈر نے کہا، “لیکن اگر حماس واقعی فلسطینی عوام کی پرواہ کرتی ہے تو پھر سے کوئی امید کر سکے گا کہ یہ بین الاقوامی مشن ایسے لوگوں تک امداد پہنچانے کے قابل ہو گا جنہیں اس کی ضرورت ہے۔”

پھر بھی یہ بات کہ سکیورٹی ایک تشویش کا باعث ہے، رائڈر نے کہا کہ کوئی امریکی فوجی بندرگاہ کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے عارضی طور پر بھی غزہ میں داخل نہیں ہوگا۔

غزہ کے لیے امریکی بندرگاہ کا نظام جس کا تصور کیا جا رہا ہے اس میں دو الگ الگ اجزاء شامل ہیں، پہلا ساحل سے دور ایک تیرتی ہوئی سمندری کشتی کی تعمیر جو امداد کی ترسیل کو قبول کرنے کے قابل ہو گا۔

اس کے بعد امریکی فوج وہاں سے امداد کو ساحل تک لنگر انداز 1,800 فٹ لمبے (550 میٹر) روش تک لے جائے گی۔

رائڈر نے کہا کہ ایک بار کام شروع کر دینے کے بعد بندرگاہ کا نظام غزہ کے باشندوں کو روزانہ تقریباً 2 ملین کھانے کی ترسیل کی اجازت دے گا۔

اس کے مقابلے میں امریکی فوج نے گذشتہ ہفتے میں چار مرتبہ کل تقریباً 124,000 کھانا فضا سے گرا کر فراہم کیا ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ جمعہ کو تازہ ترین کارروائی میں تقریباً 11,500 کھانا فراہم کیا گیا۔

جمعرات کو سوشل میڈیا کی جن رپورٹس میں کہا گیا کہ ہوائی جہاز سے گرائی گئی کچھ امریکی امداد کی وجہ سے لوگ ہلاک ہو گئے، ان کے بارے میں سوال پر رائیڈر نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ امریکی امدادی گرانے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ جمعرات کو ہونے والی ہلاکتوں کی اطلاعات جمعرات کو ہوائی امداد گرانے سے پانچ منٹ قبل سامنے آئیں۔

جبکہ بائیڈن کے بہت سے ڈیموکریٹک اتحادیوں نے امداد کی تعریف کی، کچھ ریپبلکن قانون سازوں نے اس پر تنقید کی۔

ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے ایکس پر لکھا “غزہ میں ایک بندرگاہ کی تعمیر حماس کے لیے ایک بندرگاہ کی تعمیر ہے۔”

اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے جمعہ کو امریکی منصوبے میں اقوامِ متحدہ کے کردار کو “فی الحال محدود” قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ان سے جمعرات کو اقوامِ متحدہ میں امریکی مشن نے رابطہ کیا تھا تاکہ کہا جائے کہ واشنگٹن اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور یہ کہ خطے میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار جمعہ کو امریکہ بشمول امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔

گریفتھس نے جمعہ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ “یہ بات چیت کا آغاز ہے۔ اس پر تیزی سے کام کرنا مشکل ہو گا۔ لیکن ہمیں مدد کی ضرورت ہے جہاں سے بھی مل سکے۔”

گریفتھس نے کہا، “ہمیں غزہ کے لیے بلاشبہ فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے لیکن ہمیں زمینی راستوں کی بھی ضرورت ہے۔ زمین تک رسائی ہماری بنیادی چیز ہے، یہیں سے آپ درست طور پر کام کر سکتے ہیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *