May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nancycouick.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
سائفر سرا سر جھوٹ، عمران خان کو ہٹانے میں کوئی کردار نہیں: ڈونلڈ لو

امریکا کے جنوبی ایشیا کےلیے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو نے کہا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو ہٹانے میں امریکا کا کوئی کردار نہیں، سائفر کے ذریعے امریکی سازش کا بانی پی ٹی آئی کا الزام سراسر جھوٹ ہے۔جنوبی ایشیا کےلیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ڈونلڈ لوکا امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی میں بیان کو چیئرمین کمیٹی نے تسلی بخش قرار دے دیا۔ڈونلڈ لو نے امریکی ایوان نمائندگی کی امور خارجہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں بیان ریکارڈ کرایا۔انہوں نے کہا کہ سائفر کو امریکی سازش کہنے کا عمران خان کا الزام سراسر جھوٹ ہے، یہ الزام اور سازشی نظریہ جھوٹ اور بے بنیاد ہے، سائفر سے متعلق میڈیا رپورٹ اور الزامات غلط ہیں۔ڈونلڈ لو نے کہا کہ یہ الزام غلط ہے کہ امریکا یا میں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اقدام کیا، میٹنگ میں شامل سفیر نے پاکستان کی حکومت کو بتایا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی.پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے اس حق کا احترام کرتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کو جمہوری عمل سے منتخب کریں۔امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی میں انتخابات کے بعد پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل اور پاک امریکا تعلقات پر سماعت کے دوران ڈونلڈ لو نے کہا کہ انتخابات میں بے ضابطگیوں کی شکایات دیکھنا الیکشن کمیشن پاکستان کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن پاکستان شفاف طریقے سے بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرے.الیکشن کمیشن نے اعلیٰ سطح کمیٹی بنائی ہے.جس میں ہزاروں پٹیشن جمع ہوچکی ہیں. ہم الیکشن میں بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ڈونلڈ لو نے کہا کہ ہم حکومت اور الیکشن کمیشن کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ شفاف عمل کو یقینی بنائے۔ٖانہوں نے مزید کہا کہ 31سال پہلےپشاورتعیناتی کےدوران پاکستان کے انتخابات کوقریب سےدیکھا،انتخابی دھاندلیوں،تشدداوردھمکیوں کےباوجودووٹرزسامنے آئے۔امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری جنوبی ایشیا نے یہ بھی کہا کہ 3 دہائیاں قبل نوازشریف اوربےنظیربھٹو کےدرمیان مقابلہ تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ انتخابات کےاگلےدن محکمہ خارجہ نےایک واضح بیان جاری کیا.بیان کےمطابق اظہاررائے،انجمن،پرامن اجتماع کی آزادیوں پرغیرضروری پابندیوں کونوٹ کیا گیا۔ڈونلڈلو نے کہا کہ بیان میں انتخابی تشدد،انسانی حقوق اوربنیادی آزادی پر پابندیوں کی مذمت کی گئی،میڈیا ورکرزپرحملوں،انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز تک رسائی پرپابندیاں کی مذمت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت کےالزامات کےبارےمیں تشویش کا اظہار کیاگیا،مداخلت یا دھوکا دہی کےدعوؤں کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔جنوبی ایشیا کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری نے کہا کہ الیکشن سےپہلےانتخابی بدسلوکی اور تشدد کےبارےمیں ہم فکرمندتھے،دہشت گردگروہوں کی طرف سےپولیس،سیاست دانوں اورسیاسی اجتماعات پرحملےہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *