May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nancycouick.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
A policeman walks on a beach near Kudankulam nuclear power project in the southern Indian state of Tamil Nadu. (File photo: Reuters)

دو سرکاری ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارت اپنے جوہری توانائی کے شعبے میں نجی فرمز کو تقریباً 26 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دے گا تاکہ ان ذرائع سے بجلی کی مقدار میں اضافہ ہو جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نہیں کرتے۔

یہ پہلا موقع ہے جب نئی دہلی جوہری توانائی میں نجی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے جو ایک کاربن خارج نہ کرنے والا توانائی کا ذریعہ ہے جو ہندوستان کی بجلی کی کل پیداوار میں 2 فیصد سے بھی کم حصہ دار ہے۔ اس فنڈنگ سے ہندوستان کو 2030 تک اپنی نصب شدہ برقی پیداواری صلاحیت کے 50 فیصد میں غیر حیاتیاتی ایندھن استعمال کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی جو اس وقت 42 فیصد ہے۔

دو ذرائع جو اس معاملے میں براہِ راست شامل ہیں، نے گذشتہ ہفتے کہا، حکومت ریلائنس انڈسٹریز، ٹاٹا پاور، اڈانی پاور اور ویدانتا لمیٹڈ سمیت کم از کم پانچ نجی فرمز کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ ہر ایک میں تقریباً 440 بلین بھارتی روپے (5.30 بلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کی جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی محکمہ جوہری توانائی اور سرکاری نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این پی سی آئی ایل) نے گذشتہ سال نجی کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری کے منصوبے پر مذاکرات کے کئی دور کیے ہیں۔

محکمۂ جوہری توانائی، این پی سی آئی ایل، ٹاٹا پاور، ریلائنس انڈسٹریز، اڈانی پاور، اور ویدانتا نے رائٹرز کے ارسال کردہ سوالات کا جواب نہیں دیا۔

چونکہ منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تو ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، سرمایہ کاری کے ساتھ حکومت کو امید ہے کہ 2040 تک 11,000 میگاواٹ (ایم ڈبلیو) نئی جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔

این پی سی آئی ایل 7,500 میگاواٹ کی صلاحیت کے ساتھ بھارت کے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے موجودہ بیڑے کا مالک ہے اور اسے چلاتا ہے اور اس نے مزید 1300 میگاواٹ کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فنڈنگ پلان کے تحت نجی کمپنیاں جوہری پلانٹس میں سرمایہ کاری کریں گی، زمین اور پانی حاصل کریں گی اور پلانٹس کے ری ایکٹر کمپلیکس سے باہر کے علاقوں میں تعمیرات شروع کریں گی۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اسٹیشنوں کی تعمیر اور چلانے کے حقوق اور ان کے ایندھن کا انتظام این پی سی آئی ایل ہی کے پاس رہے گا جیسا کہ قانون کے تحت اجازت دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نجی کمپنیوں کو پاور پلانٹ کی بجلی کی فروخت سے آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے اور وہ فیس کے عوض منصوبوں کو چلائیں گی۔

شعبۂ توانائی کے ایک آزاد مشیر چارودتا پالیکر نے کہا جو پہلے پی ڈبلیو سی کے لیے کام کرتے تھے، “جوہری توانائی کے منصوبے کی ترقی کا یہ ہائبرڈ ماڈل جوہری صلاحیت کو تیز کرنے کا ایک جدید حل ہے۔”

دو ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے 1962 کے انڈیا کے جوہری توانائی ایکٹ میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں لیکن اسے جوہری توانائی کے محکمے سے حتمی منظوری کی ضرورت ہوگی۔

ہندوستانی قانون نجی کمپنیوں کو جوہری توانائی پلانٹس لگانے سے روکتا ہے لیکن انہیں ری ایکٹرز کے باہر کام کے لیے پرزہ جات و آلات فراہم کرنے اور تعمیراتی معاہدوں پر دستخط کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

نئی دہلی نے برسوں سے اپنے جوہری توانائی کی صلاحیت میں اضافے کے اہداف کو پورا نہیں کیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ جوہری ایندھن کی سپلائی حاصل نہیں کر سکا۔ تاہم 2010 میں بھارت نے دوبارہ پروسیس شدہ جوہری ایندھن کی فراہمی کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔

بھارت کے جوہری معاوضے کے سخت قوانین نے غیر ملکی پاور پلانٹ بنانے والوں مثلاً جنرل الیکٹرک اور ویسٹنگ ہاؤس کے ساتھ بات چیت میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ ملک نے 2020 سے 2030 تک 2000 میگاواٹ جوہری توانائی شامل کرنے کے ہدف کو مؤخر کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *