May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nancycouick.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

سول سوسائٹی ارکان کو اجلاس سے خارج کرنے جیسی شرائط عائد کی گئیں: گوتیرس، دو روزہ اجلاس کے اختتام پر گفتگو

دوحہ میں  افغانستان سے متعلق دو روزہ کانفرنس  میں گوتریس خطاب کر رہے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کو کہا کہ طالبان نے افغانستان پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے ناقابل قبول شرائط رکھی ہیں۔ قطر میں دو روزہ اجلاس کے اختتام پر گوتریس نے کہا کہ طالبان کے مطالبات میں افغان سول سوسائٹی کے ارکان کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات سے خارج کرنا شامل تھا۔ ایسے سلوک کا مطالبہ بھی کیا گیا جو طالبان کو ملک کے جائز حکمران کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

دو دہائیوں کی جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ کسی ملک نے ابھی تک طالبان کو افغانستان کی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر مسلسل پابندی کی روشنی میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

دوحہ میں دو روزہ اجلاس میں بعض ملکوں کے نمائندے اور خصوصی ایلچی شامل تھے۔ اس اجلاس میں طالبان کو بھی مدعو کیا گیا لیکن انہوں نے اس بنا پر شرکت نہیں کی کیونکہ ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تھے۔ گوتیریس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مجھے (طالبان کی طرف سے) ایک خط موصول ہوا ہے جس میں اس اجلاس میں شرکت کے لیے کچھ شرائط ہیں جو ناقابل قبول ہیں۔ ان شرائط نے ہمیں افغان معاشرے کے دیگر نمائندوں سے بات کرنے کے حق سے محروم کر دیا اور ایسے سلوک کا مطالبہ کیا جو پہچان سے قریب تر ہو۔

افغانستان میں  امداد کے حصول کے لیے خواتین  قطار میں کھڑی ہیں۔ طالبان حکومت کا سکیورٹی اہلکار بھی موجود ہے

افغانستان میں امداد کے حصول کے لیے خواتین قطار میں کھڑی ہیں۔ طالبان حکومت کا سکیورٹی اہلکار بھی موجود ہے

انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ طالبان کی عدم موجودگی اس عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے ساتھ ملاقات کے نتائج پر بات کرنا مفید ہے۔ یہ آج نہیں ہوسکا لیکن یہ مستقبل قریب میں ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسا حل تلاش کریں گے جس سے طالبان کو شرکت کی اجازت ملے۔

عالمی برادری اور طالبان کے درمیان تنازع کا سب سے بڑا نکتہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندی ہے۔ طالبان کا اصرار ہے کہ پابندی ایک اندرونی معاملہ ہے۔ طالبان اس پر تنقید کو خارجی مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے آرہے ہیں۔ تاہم گوتیرس نے کہا کہ اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا ہے کہ ان پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔

ایک اور مسئلہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تقرری کا ہے جس کی طالبان مخالفت کرتے ہیں۔ اس تناظر میں گوتیرس نے کہا کہ طالبان کے ساتھ “واضح مشاورت” کی ضرورت ہے تاکہ سفیر کے کردار کی وضاحت حاصل کی جا سکے اور یہ وہ کون ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاورت کا حصہ بننا طالبان کے مفاد میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *