May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nancycouick.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
This photograph shared by India's Prime Minister Narendra Modi on his social media platform X shows him climbing out of water in Dwarka, Gujarat, India, Sunday, Feb. 25, 2024. (File photo: AP)

ہندوستانی سوشل میڈیا کی انفلوئنسر چاندنی بھگت تین سالوں سے انسٹاگرام پر ویڈیوز بنا رہی ہیں – اب وہ اپنے کانٹینٹ میں مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی رنگ بھی ملا رہی ہیں۔

بھگت سوشل میڈیا کے ان ہزاروں انفلوئنسرز میں سے ایک ہیں جنہیں انتخابات کی دوڑ میں شامل سیاسی جماعتیں متحرک کرتی ہیں تاکہ وہ ایک نوجوان اور ہمیشہ آن لائن رہنے والی آبادی پر مشتمل ہندوستان کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔

18 سالہ بھگت – جن کے دو لاکھ سے زیادہ انسٹاگرام فالوورز ہیں – گذشتہ سال وسطی ہندوستان کے شہر اندور میں مواد کے 100 سے زائد تخلیق کاروں میں شامل تھیں جنہیں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنان سے ملنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

ہندو بھگوان شیوا سے مغلوب ان کے انسٹاگرام گرڈ کو تب سے کم از کم پانچ پوسٹس کے ساتھ بی جے پی کو فروغ دینے کی تاکید کی گئی تھی جس میں سے ایک ان کی علاقائی خواتین کی صحت کی اسکیم کی حمایت کرتی تھی اور دوسری میں پارٹی کے ایک سابق وزیر کے ساتھ مسکراتے ہوئے سیلفی لی گئی تھی۔

بھگت نے کہا، “میں ان چیزوں کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں جن سے میرے سامعین کو فائدہ پہنچے۔”

ہندوستان میں 800 ملین سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین ہیں اور دنیا میں انسٹاگرام اور یوٹیوب کا سب سے بڑا استعمال ہوتا ہے اس لیے پارٹی کے سیاسی پرچم لہرانے کے لیے اعلیٰ اثر و رسوخ کی حامل شخصیات کی خدمات حاصل کرنا معنی خیز ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی نے گذشتہ سال سے سوشل میڈیا کے کئی سو انفلوئنسر تک رسائی حاصل کی ہے جن میں سے سبھی انسٹاگرام یا یوٹیوب پر فالوورز رکھتے ہیں۔

کچھ لاکھوں فالوورز پر فخر کرتے ہیں، دوسروں کے محض ہزاروں ہیں۔

مرکزی دھارے کے زیادہ اہم میڈیا کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں وزارتی انٹرویوز کی پیشکش کی جاتی ہے جو فوٹو آپس اور مودی کے پیغام کو پھیلانے والی تھیم کی حامل پوسٹس کے ساتھ ہو۔

ہزارہا انفلوئنسرز میں سے سیاحت، خوراک، مذہب اور ٹیکنالوجی سے متعلق مواد کے تخلیق کاروں کو ان کی عوام تک رسائی کے لیے استعمال کرنے والی اس مہم کا اوج اس اپریل اور مئی کے عام انتخابات میں ہوتا ہے۔

بی جے پی کی انتخابی ٹیم کے ایک شریک دیوانگ ڈیو نے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، “گذشتہ سال ہم نے مختلف طبقات کے انفلوئنسرز سے ملاقاتیں کیں جہاں ہم نے انہیں پارٹی کی حکمتِ عملی، عمل درآمد اور حکومت کی جانب سے نو سالوں میں حاصل کردہ کامیابیوں کے بارے میں بتایا اور ان سے ان کے تجربات دوبارہ تخلیق اور دوبارہ اشتراک کرنے کی درخواست کی۔”

“اگر یہ تیسری پارٹی کی آواز کے طور پر آتی ہے تو یہ بہت زیادہ صداقت فراہم کرتی ہے۔”

تمام جماعتیں حصہ لے رہی ہیں

اس حکمتِ عملی میں بی جے پی تنہا جماعت نہیں ہے۔

مرکزی اپوزیشن انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے لیے سوشل میڈیا مواصلات چلانے والے ویبھو والیا نے بتایا کہ ان کی پارٹی انفلوئنسرز کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی خدمات فعال طور پر حاصل کرتی ہے۔

والیا نے کہا، “ہم ہم خیال لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ ہمارے لیے پوسٹ کر رہے ہیں۔”

“(حتیٰ کہ) اگر (مواد) براہِ راست کانگریس (سے متعلقہ) نہ ہو تو وہ ایسی آراء دے رہے ہیں جو ہمارے سیاسی نظرئیے اور مؤقف سے ہم آہنگ ہیں۔”

گذشتہ سال کے آخر میں پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے اپنے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے اثر و رسوخ کے حامل افراد کو فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی۔

اسی وقت بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں بھارت راشٹرا سمیتی نے ریاستی انتخابات میں اپنے مقصد کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 250 انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کیں۔

اس کے باوجود ہندوستان میں آن لائن غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور ان تمام خطرات کے پیشِ نظر جو جعلی خبروں کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو لاحق ہیں، یہ حکمتِ عملی خدشات بھی پیدا کرتی ہے۔

محققین کہتے ہیں کہ شفافیت بھی ایک پریشانی ہے۔

انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے ایک ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پراتیک واگھرے نے کہا، “ہمیں نہیں معلوم کہ آیا مالی تبادلے یا کسی قسم کے صلے یا عوضانے کی توقع کی بنا پر کام کیا گیا ہے – جو لکیروں کو دھندلا دیتا ہے اور دھندلا پن پیدا کرتا ہے۔”

اثر و رسوخ کا ارتقاء

سیاسی مشیران کے مطابق ہندوستانی اثر و رسوخ کی حامل شخصیات پر مبنی مہم کا خیال تین یا چار سال پرانا ہے جب نئی دہلی میں فارم کے مظاہروں کے موقع پر آن لائن پوسٹس نے مظاہروں کے حجم میں اضافہ کر دیا۔

پولیٹیک ایڈوائزرز نامی ایک سیاسی مشاورت کے بانی انکت لال نے کہا، “انفلوئنسرز اور یوٹیوب کے مقامی نیوز چینلز کا پیغام کو پھیلانے میں مدد کرنے میں بہت بڑا کردار تھا۔”

“یہ وہ چیز ہے جس نے بی جے پی کی توجہ حاصل کی۔ انہیں نئے اور کم عمر سامعین تک پہنچنے اور پہلے سے موجود انفلوئنسرز کو استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔”

ہندوستان میں 20 ملین سے زیادہ ووٹرز ہیں جن کی عمریں 18-29 سال ہیں اور لاکھوں مزید لوگ تمام جماعتوں کے سیاست دانوں کی تشہیر اور ان کے انٹرویو کرنے والوں کو دیکھنے کے لیے آن لائن ہوتے ہیں۔

مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسر جویوجیت پال نے کہا، یہ پوسٹس “سیاستدانوں کو انسان بنانے کا کام کرتی ہیں” حالانکہ وہ کافی حد تک “براہِ راست پروپیگنڈہ ہو سکتی ہیں”۔

انتہائی مقامی

سمیک جین انسٹاگرام پر تقریباً 110,000 فالوورز کے لیے سفری مواد پوسٹ کرتے ہیں اور بی جے پی کے انفلوئنسرز کے لیے کیے گئے چار اجلاسوں میں جا چکے ہیں۔

22 سالہ جین نے کہا، “یہ ایک عام باہمی رابطہ ہوتا ہے جہاں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سب کو کیا کرنا ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ پارٹی کیا کام کر رہی ہے، وہ کیا کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں – ان کا سفر۔”

جین کئی سو علاقائی انفلوئنسرز میں شامل ہیں جنہیں بی جے پی نے ان کی انتہائی مقامی رسائی کے لیے استعمال کیا ہے۔

بی جے پی کے ڈیو نے کہا، اگر مثلاً ایک نئی سڑک کسی انفلوئنسر کے گھر کے قریب بنانی ہے تو پارٹی ان سے اس بارے میں بات کرنے کو کہتی ہے کہ تبدیلی نے ان کی زندگی کو کس طرح بہتر بنایا ہے۔

“بات یہ نہیں کہ پارٹی انہیں پوسٹ کرنے کے لئے کچھ دے بلکہ اس کا مقصد یہ ہےکہ عوام کے پاس جایا جائے اور بات کی جائے… کہ مودی حکومت کو واپس کیوں آنا چاہئے اگر وہ چاہتے ہیں کہ ترقی کا رجحان جاری رہے۔”

سوشل میڈیا مشیران کا خیال ہے کہ مقامیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ انفلوئنسر اپنے سامعین کے ساتھ باہمی اعتماد پیدا کر سکتے ہیں۔

ایک تعلقاتِ عامہ کی ایجنسی سیون کمیونیکیشن کے بانی کمار سورو نے کہا، “بھارت میں انتخابات زیریں سطح پر جیتے جاتے ہیں اور ان انفلوئنسر سے (ان خطوں میں) لوگ بخوبی واقف ہوتے ہیں۔”

مواد کے ایک تخلیق کار کے مطابق ایک سیاست دان کی جانب سے پوسٹ کر کے پیسہ بھی کمایا جا سکتا ہے جنہوں نے کہا کہ انہیں حزبِ اختلاف کی کئی جماعتوں نے گذشتہ سال مدھیہ پردیش کے علاقائی انتخابات سے قبل بی جے پی مخالف مواد بنانے کے لیے کہا تھا۔

ایک تخلیق کار نے کہا جنہیں حکمران جماعت کی پالیسیوں پر تنقیدی پوسٹس کرنے کا کام سونپا گیا تھا، “بہت سے سیاست دان سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں لیکن ان کے پیروکار نہیں ہیں۔”

“انہوں نے اس کا تذکرہ نہ کرنے کو کہا کہ یہ ایک بامعاوضہ یا سپانسر شدہ پوسٹ ہے۔”

اپنا نام ظاہر نہیں کرنے والے تخلیق کار نے کہا انہوں نے ایسی پانچ پوسٹس کی ہیں جن میں سے ہر ایک سے تقریباً 180 ڈالر کمائے ہیں۔

اب چونکہ انتخابی مہم تیزی اختیار کر رہی ہے تو جماعتیں کہتی ہیں کہ وہ آن لائن کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بی جے پی کے ڈیو نے کہا، “ایک بار امیدواروں کا اعلان ہو جائے تو ہم تمام حلقوں میں بہت زیریں سطح پر (انفلوئنسر تک) پہنچیں گے تاکہ وہ یہ بھی سمجھ سکیں کہ یہ مخصوص امیدوار ان کے حلقے کے لیے کس طرح بہتر رہے گا۔”

“یہ دکھانا ہے کہ مودی جی کس طرح تمام ریاستوں اور پورے ملک میں ان تمام تبدیلیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *