May 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nancycouick.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
الهلال كما ظهر فجر يوم 17 رمضان 1445 هـ

لیبیا میں رمضان کا چاند دیکھنے اور عید الفطر کی تاریخ پر ایک تنازعہ ابھرا ہے جس نے ملک میں عوامی اور مذہبی حلقوں میں ایک نئی تقسیم پیدا کی ہے۔

دراصل یہ اختلاف رمضان المبارک کے روئیت ہلال سے چلا آ رہا ہے۔لیبیا میں دیگر عرب ممالک کے برعکس 12 مارچ کو پہلا روزہ تھا جب کہ اس کے پڑوسی ممالک میں 11 مارچ کو رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا تھا۔ اب اگرلیبیا دوسرے عرب ممالک کے ساتھ پیر کی شام کو چاند دیکھتا ہے اور چاند دکھائی دینے کی صورت میں لیبیا میں رمضان کے 28 روزے مکمل ہوتے ہیں۔ اس طرح انہیں ایک روزے کی قضاء کرنا ہوگی۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ حکومت نے فتویٰ کے لیے جنرل اتھارٹی سے وابستہ روئیت ہلال کمیٹیوں سے کہا کہ وہ 28 رمضان کو عیدالفطر کا چاند دیکھیں۔ یعنی مخصوص تاریخ سے ایک دن پہلے۔ اگر چاند نظرآتا ہے تو اگلے دن عیدالفطرہوگی اور لیبیا میں رمضان کے28 دن ہوں گے‘‘۔

28 دنوں کا رمضان

لیبیا کے عوام نے 12 مارچ بہ روز منگل کو رمضان کے دوران روزہ رکھنا شروع کیا جب ان سے پہلے اکثر عرب اور اسلامی ممالک میں گیارہ مارچ کو روزہ تھا۔ اس طرح اگر پڑوسی ملکوں میں رمضان 29 کا ہوتا ہے تو لیبیا میں یہ 28 دن کا ہوگا۔

اسی مناسبت سے پارلیمنٹ کی طرف سے مقرر کردہ حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ “اس سال رمضان کے چاند کو ثابت کرنے میں کچھ لوگوں کی طرف سے پیدا ہونے والی الجھن اورعدالتوں کے سامنے گواہوں کی گواہی کے ناقابل قبول ہونے کے پیش نظراٹھائیس رمضان المبارک کوشوال کا چاند دیکھنے کا کہا گیا ہے۔

اس حوالے سے لیبی میڈیا میں یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ پڑوسی ملکوں میں چاند نظرآنے کی اطلاعات کے بعد لیبیا میں بھی روئیت ہلال کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں جب کہ اس کے متوازی ایسی شہادتیں بھی ملیں جن میں کہا گیا تھا کہ رمضان المبارک کا چاند دکھائی نہیں دیا۔ اس طرح روئیت کے بارے میں رمضان کے آغاز سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔

’ہم نے اس وقت رمضان کا چاند نہیں دیکھا تھا‘

لیبیا کی جنرل اتھارٹی برائے اوقاف اور اسلامی امور نے ایک بیان میں ماہ رمضان کے چاند کی روئیت کی درستگی پر زور دیا اور کہا کہ “ہلال تلاش کرنے والی کمیٹیوں نے اپنی تمام رصدگاہوں میں ہلال کی تلاش کی لیکن انہوں نے اسے نہیں دیکھا تو انہوں نے اعلان کیا کہ ہلال کا دیکھنا ناممکن ہے۔ اس لیے پیر 11 مارچ رمضان نہیں بلکہ تیس شعبان ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماہ رمضان کے آغاز کا اعلان “درست اور شک و شبہ سے بالاتر تھا۔ اگر پیر کو چاند نظر آتا ہے تو یہ 28 رمضان المبارک ہوگا اور اگلے دن منگل کو عید ہوگی۔اگر چاند دکھائی دیتا ہے تو اگلے دن عید ہوگی مگر لیبیا میں 28 روزے ہونے پر ایک روزے کی قضاء واجب ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *